In خبریں

صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کاوزیر اعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر کے حالیہ بیان پر رد عمل

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردا ر عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم آزادکشمیر کا بیان نواز لیگ کی حقیقی کشمیر پالیسی کا عکاس ہے۔ اس بیان سے راجہ فاروق حیدر کی اصل بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ پاکستان کے اعلی ترین ادارے سپریم کورٹ کی توہین ناقابل فہم ہے۔ آزادکشمیر میں نواز لیگ کی مخالفت ایک بہانا ہے۔ نظریہ الحاق پاکستان نواز لیگ کا اصل نشانہ ہے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کے پاس قرارداد الحاق پاکستان کے حوالے سے بات کرنے کا کوئی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے بیان پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کیا۔ سردار عتیق نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر خان سیاسی، اخلاقی اور انتظامی حدود سے تجاوز کرنے کے بعداب آئینی اور نظریاتی حدود سے بھی تجاوز کرنے لگ گئے ہیں۔ نواز شریف کشمیری عوام کے سب سے بڑے مجرم ہیں۔ نواز شریف تیزی کے ساتھ اپنے عبرتناک انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی توہین پر آزادکشمیر کی اعلی عدالتوں کو از خودنوٹس لینا چاہئے۔ نواز لیگ کو معلوم ہونا چاہئے کہ قرارداد الحاق پاکستان اور نظریہ پاکستان کے وارث ریاست کے کونے کونے میں زندہ و جاوید ہیں۔ اس طرح کی بیان بازی کا ایک مقصد بعض وطن پرست عناصر کو متوجہ کرنا ہے۔ جبکہ راجہ فاروق حیدر خان کی گزشتہ چند سالہ کارکردگی واضح ہے کہ کوئی بھی شخص ان کی سیاسی بلیک میلنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔ نواز لیگ کے اٹھارویں گریڈ کے دو سرکاری ملازمین کا بیگ بستہ اٹھا کر چلنے والا شخص نیشنلسٹ عناصر کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ امان اللہ خان کے جنازے پر راجہ فاروق حیدر کا رویہ کل کی بات ہے۔ راجہ فاروق حیدر خان بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اپنے انجام سے خوفزدہ ہیں۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کا بیان سیاسی بدحواسی اور اپنے انجام سے خوفز دگی کا نتیجہ ہے۔ نواز لیگ آزادکشمیر کے آئینی امور کے سربراہ ایک سابق چیف جسٹس گزشتہ کئی سالوں سے نواز لیگ کی ہدایت پرنظریہ الحاق پاکستان کی مخالفت اور نقائص بیان کرنے پر مامور ہیں۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کا بیان ان کے قائد میاں نواز شریف کے سجن جندال ، اجیت ڈوول اور نریندر مودی سے ملاقاتوں کا تسلسل ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے بارے میں رائے زنی کرنے سے پہلے کسی بھی باخبر شخص کو جنرل ضیاء الحق ، سردار ذیل زسنگھ اور اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب میاں نواز شریف کے درمیان ہونے والی گفتگو کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ معلومات کے لئے ماہنامہ سپوٹک 1990 نومبر کا شمارہ مطالعے کے لئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے شخص کو ابھی ہزاروں جرائم میں سے ایک کا سامنا ہواہے۔ میاں نواز شریف نے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن میں سے کچھ کی سزا نااہل اور قید و بند ہے جبکہ کئی جرائم کی سزا میں انھیں کئی کئی مرتبہ چوک اور چوراہے میں پھانسی دی جا سکتی ہے۔ نواز شریف نے شہدائے کشمیر کے خون اور پاکستان کے دفاع کی قیمت پر ہندوستان کے ساتھ ذاتی اور کاروباری تعلقات استوار کر کے غداری کا ارتکاب کیا ہے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کو یاد رکھنا چاہئے کہ نواز لیگ اب قصہ پارینہ بن چکی ہے صرف چندماہ انتظار کریں اور اپنے خوفناک انجام سے بچنے کی فکر کریں۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے اور نظریہ الحاق پاکستان پر نظر ثانی کرنے جیسے بڑے بڑے کام ان کے قد کاٹھ سے بہت بلند ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو مظفرآباد کے خیمے سے وائٹ ہاؤس کے درمیان محدود رکھیں۔ راجہ فاروق حیدر خان کا بیان قومی سلامتی کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے تحریک آزادی کشمیر کی پشت پر چھرا گھونپا ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کے بیان نے اس حلف کی اعلانیہ خلاف ورزی کی ہے جس کی بناپر وہ آج حکومت آزادکشمیر کے سربراہ ہیں۔ یہ معمول کے جرائم میں سے نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے۔ مسلم کانفرنس اپنے وکلاء اور آئینی اور قانونی ماہرین کی مشاورت سے قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہی ہے۔ تمام اسمبلی ممبران سے میرا مطالبہ ہے ان میں سے ہر شخص وزیر اعظم کے بیان سے اعلان لا تعلقی کا اعلان کریں۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کا جو بیان اخبارات میں رپورٹ ہوا ہے وہ PID کی طرف سے سرکاری طور پر جاری ہوا ہے۔ یہ کسی اخبار کی من گھڑت کہانی نہیں ہے۔ جہاں تک وزیر اعظم آزاد کشمیر کے اس بیان کی اشاعت کا تعلق ہے وہ ایک الگ واقعہ سہی لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ وہ اندرون خانہ اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرنا اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔

Leave a Reply

Send Us Message

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>