In خبریں

صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کا شریعت کورٹ پر موقف

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ نواز لیگ آزادکشمیر کو بدترین سیکولر ریاست بنانا چاہتی ہے۔ عام انتخابات میں ریاست سے سیاسی تشخص ختم کیا گیا اور اب شریعت کورٹ کو ختم کر کے اسلامی تشخص بھی مٹانے کی کوششیں کی جار ہی ہیں۔ ’’را‘‘ کے چیف کی گاڑی چلانے والے نواز شریف کشمیریوں کے اوپر ہونے والے ظلم و ستم پر مکمل خاموش ہیں۔ لیگی حکومت شریعت کورٹ ختم کرنے سے باز رہے آزادکشمیر میں اسلامی اقدار کے منافی اقدام کی مخالفت کریں گے۔ آزاد حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے اجتناب کرے ۔ نواز لیگ پہلے مرحلے میں شریعت کورٹ اور دوسرے مرحلے میں قاضیوں، مفتیوں کو فارغ کرنا چاہتی ہے۔ آزادکشمیر کی تمام دینی جماعتیں مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں اور حکومت کی اسلام مخالف سرگرمیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں۔ حیرت کی بات ہے کہ اسلام کے نام لیوا جماعت اسلامی حکومت کی اتحادی ہے اور وہ اس حساس ایشو پر خاموش کیوں ہے۔
انھوں نے ان خیالات کااظہار آزاد حکومت کی طرف سے شریعت کورٹ کو ختم کیے جانے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کیا۔سردار عتیق نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے ریاست کے ادارے قائم کئے ۔ کچھ ناعاقبت اندیش انھیں ختم کرنے کے درپے ہیں۔شریعت کورٹ کا قیام مجاہد اول کی کاوش تھی۔ ریاست میں اسلامی اقدار کا نفاذ مسلم کانفرنس کا مشن ہے لیکن لیگی حکومت شریعت کورٹ کو ختم کر کے نہ جانے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ حکومت اگلہ حملہ مفتیوں اور قاضیوں پر کرنا چاہتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کے ساتھ ملکر شریعت کورٹ بحالی تحریک چلائیں گے اور حکومت کے سیکولر خیالات کو شکست دینگے۔ انھوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں NTS کے نام پر ڈرامہ رچایا گیا۔ لیگی کارکن NTS کے عملہ کے فرا ئض انجام دیتے رہے جوکہ سوالیہ نشان ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے NTS کے اوپر حکم امتناعی بھی دیا ہوا تھا اُس کا خیال نہ رکھتے ہوئے جلدی میں NTS کے پیپر لینا میرٹ اور گڈ گورننس کے دعوؤں کو مشکوک کرتا ہے۔ سردار عتیق نے مزید کہا کہ سینکڑوں تجربہ کار اساتذہ کرام کے پرامن احتجاج پر حکومت کا لاٹھی چارج باعث ندامت ہے۔

Leave a Reply

Send Us Message

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>