کارہائے نمایاں

مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کے سنہری اقدامات

بین الاقوامی سطح پر

-01 مجاہد اول کے 1970 ء میں صدر بننے سے قبل آزاد کشمیر میں دنیا کی تمام NGOs ، INGOs کے داخلے پر مکمل پابندی تھی ۔ مجاہد اول نے صدر/چیف ایگزیکٹو منتخب ہونے کے بعد پہلی بار معروف عالمی اداروں کو آزادکشمیر میں داخلہ کی اجازت دی۔ جن میں WFP، WHO، UNESCO،UNICEF اور UNDP کے نام شامل ہیں۔
-02 1974 ء کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور مسئلہ کشمیر کا تعارف۔
-03 رابطہ عالم الاسلامی میں 1979 ء میں سیز فائر لائن کی دونوں جانب کشمیریوں کے درمیان مذاکرات(Intra Kashmir Dialogue) پر دنیا بھر میں پہلی قرارداد کا پیش کرنا اور منظور کروانا۔
04 برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز میں کشمیر کمیٹی کا قیام
-05 رابطہ العالم الاسلامی میں مجلس تاسیسی کی رکنیت کا حصول۔
-06 OIC میں کشمیریوں کو مبصر کی حیثیت دلوانے کے لیے کلیدی کردار

مذہبی اقدامات

-07 آزاد کشمیر میں شرعی قوانین کا نفاذ اور عملی اقدامات ، قاضیوں اور مفتیوں کا تقرر اور جمعہ کی سرکاری چھٹی۔
-08 پہلی بار دینی مدارس کی باقاعدہ سرکاری سرپرستی اور صدر آزاد کشمیر کی سطح پر درس قرآن کے اہتمام آغاز۔
-09 امور دینیہ کے ا دارے کا قیام ۔
10 سعودی عرب کے بعد آزادکشمیر میں پہلی مسلمان حکومت تھی جس نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا۔ جس کے ایک سال کے اندر اندر پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کو بھی یہ اقدام کرنا پڑا۔
-11 اردو کو سرکاری زبان اور شلوار قمیض کو قومی لباس کا درجہ دینا۔
12 تجوید القرآن ٹرسٹ کا قیام
–13 جہاد آزادی کشمیر میں شامل ہونے والے غازیوں کی خصوصی نقد رقم سے امداد کرنا۔

تعلیمی اصلاحات 

14 سارے آزاد کشمیر میں جگہ جگہ تعلیمی اداروں کا قیام۔
-15 آزاد کشمیر کے طلباء کو پہلی دفعہ بیرون ممالک یونیورسٹی میں تعلیم کی فراہمی۔
-16 آزاد کشمیر میں پہلی بار تعلیمی انقلاب اور یونیورسٹی کے قیام کا اقدام۔
-17 کشمیری طلباء اور اساتذہ کے لیے سکالر شپس کا حصول۔
-18 آزاد کشمیر چھ فیصد تعلیمی تناسب کی سطح سے بڑھا کر چند ہی سالوں میں ہنگامی بنیادوں پر پچاس فیصد تک پہنچانا اور مفت تعلیم کی فراہمی ۔
19 تعلیمی اداروں میں عربی زبان کی تعلیم کے نظام کی بنیاد۔
-20 تعلیمی ادارہ جات میں شہری دفاع کی تربیت کا انتظام۔
-21 وادی نیلم کو پسماندگی کی بناء پر طلبا ء/طالبات کو وظائف کی اجرائیگی۔
22 بکروال ( خانہ بدوش) طبقے کے لیے موبائل اساتذہ کی فراہمی اور قاری حضرات کا تقرر۔

نظریاتی اور سیاسی

-23 23 اگست 1947 ء نیلہ بٹ کے مقام سے تحریک آزادی کشمیر کی عملی جدوجہد کا آغاز اور آزاد کشمیر میں فوج اور باغ بریگیڈ کی بنیاد
-24 مسئلہ کشمیر کی سمت درست رکھنے کے لیے’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے کی بنیاد اور نظریہ الحاق پاکستان کا آئینی تحفظ ۔
آزاد کشمیر میں سول ملٹری تعلقات کے قیام کے لیے اقدامات
-25 آزاد جموں و کشمیر کی خصوصی دفاعی اہمیت کے پیش نظر افواج پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطہ بندی/ مشاورت۔
-26 ضلع نیلم میں پاکستان کی ریگولر فورس کی فراہمی۔
-27 سرکاری جنگلات کے تحفظ کی خاطر خصوصی پولیس فورس کا قیام۔
28 سول ڈیفنس کے پلیٹ فارم سے تمام تعلیمی اداروں میں بنیادی فوجی تربیت کا اہتمام ۔

ادارہ جات کا قیام

-29 محکمہ ترقیات و منصوبہ بندی (P&D) کا پہلی بار باقاعدہ قیام۔
-30 زراعت اور آبپاشی کے نظام کا قیام۔
-31 جوڈیشل بورڈکا قیام جیسے بعد میں سپریم کورٹ میں تبدیل کیا گیا۔
32 آزاد کشمیر میں پبلک سروس کمیشن کا قیام ۔
-33 چھتر میں نئے سیکرٹریٹ کا قیام۔
-34 کشمیر سول سروس کا قیام اور سرکاری ملازمین کو پنجاب کے مساوی درجہ دلانا۔
-35 اکلاس ،AKDIDC اور محکمہ واٹر شیڈ کا قیام۔
-36 تحصیل کوٹلی کو ضلع کا درجہ دینا۔

دیگر چند اہم اقدامات

37 وفاقی اداروں میں آزاد کشمیر کے لوگوں کے لیے کوٹہ مقرر کروانا ۔
38 پن بجلی منصوبوں کی پہلی بار آزادکشمیر میں بنیاد رکھی۔
-39 میگا تعمیراتی منصوبوں کو پاکستان گیمنز کے ذریعے تعمیراتی کام کروانا۔
-40 جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ اور فروغ کے لیے گیس اور کوئلے کی سستی فراہمی اور جنگلات کے کٹاؤ پر مکمل پابندی ۔
-41 آزاد کشمیر میں جنریٹروں کے ذریعے ضلعی سطح پر بجلی کی فراہمی کا انتظام۔
-41 صدیوں پرانے ظالمانہ نظام( نمبرداری سسٹم) مالیہ کا خاتمہ۔
-42 مہاجرین مقیم پاکستان کو قومی اداروں میں ملازمتوں کی فراہمی ۔
-43 Provincial Coordination Committee میں آزاد کشمیر کو نمائندگی دلانا۔
-44 مرکزی حکومت اور مرکزی سرکاری اداروں میں آزاد کشمیر کے لیے آبادی اور رقبے کی بنیاد پر اڑھائی فیصد کوٹے کا اصولی فیصلہ اور اس پر سختی سے عمل درآمد۔
45 مجاہد اول نے پہلی بار کھانے پینے کی چیزوں پر سبسٹدی دی ۔
46 آزادکشمیر کو ترقیاتی اور انتظامی امور میں صوبائی طرز پر کی مراحات دلانا۔</p>

سردار عتیق احمد خان کے حوصلہ افزاء اقدامات 

-01 مسئلہ کشمیر کو اندرون مند ملک اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اقدامات ۔ مظفرآباد میں پہلی بین الاقوامی کشمیر کانفرنس کا انعقاد اور بیرون ممالک وفود کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کرنا۔
-02 ڈاکٹر غلام نبی فائی کے تعاون سے پہلی بار مونٹی وڈیو/یورا گوائے جنوبی امریکہ میں کشمیر کانفرنس کا انعقاد ۔
-03 ریاست جموں و کشمیر میں قائد اعظم کے سیاسی جانشین اور تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنماء رئیس الاحرار قائد ملت چوہدری غلام عباس کے مزار کو ریاست جموں و کشمیر کے قائد اعظم کی حیثیت دینے اور اس پر روزانہ پولیس دستے کی سلامی اور پرچم کشائی کا فیصلہ۔
-04 آزاد جموں وکشمیر بینک کا قیام۔
-05 سرسبز ہنرمند کشمیر پروگرام کا آغاز۔
-06 ایشن ڈیویلپمنٹ بینک کے لیزان آفس کا قیام۔
-07 اورسیز کشمیریوں کے لئے کشمیر ہاؤس میں کشمیر ڈسک کا قیام۔
-05 کشمیر ہائی وے اتھارٹی (KHA) کا قیام اور کشمیر ٹرنگ روڈ (KTR) منصوبہ کے تحت ارجہ گلیاری، ارجہ باغ، راجہ راولاکوٹ، چکوٹھی تامظفرآباد ، مظفرآباد تا اٹھ مقام ، شاہرات کی تعمیر، ضلع بھمبر کے تمام بازاروں کی سڑکات کی نالیوں اور شولڈر کی تعمیر، تمام معروف سڑکات کے ساتھ پہلی بار ہارڈ شولڈر اور کشادہ نالیوں کی تعمیر، کوہالہ کلیاری سے ڈڈیال پلاک تک سڑک کی کشادگی اور بھمبر، مناوراور گجرات سڑک کی تعمیر کی منصوبہ بندی۔
-06 آزاد کشمیر کے ترانے کی اصلاح۔
-07 آزاد کشمیر میں ٹریڈ اینڈ ٹور رازم ٹنلز کی تعمیر کے لیے شاؤنٹر ، کا مسر، لوہار گلی، لمنیاں، لیپا، لمنیا، موجی، پانڈو، لس ڈنہ اور ناڑ شیر علی خان، آزاد باڑہ، ٹنلز( سرنگوں) کی منصوبہ بندی۔
-08 غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی تصویر کی سرکاری دفاتر میں آویزگی کی منظوری۔
-09 آزاد کشمیر اور سکردو کو مستقبل اور محفوظ رابطے کے لیے شاؤنٹر ٹنل کا منصوبہ۔
-10 آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں آبا د مہاجرین جموں و کشمیر کو چالیس سال سے زائد عرصہ کے بعد حقوق ملکیت کی فراہمی۔
-11 پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ( شراکت داری) قانون کا تعارف۔
-12 معیار تعلیم میں بہتری کے لیے کارکردگی ایوارڈز، اساتذہ کو ٹائم سکیل اور تدریسی الاؤنس کی منظوری اور تعلیمی اداروں میں Consoildation کے لیے منصوبہ بندی، غیر موجود سہولتوں (Missing Facilities) کی فراہمی، انگریزی/سائنس/ریاضی کی سالہا سال سے غیر موجودہ آسامیوں کی تخلیق اور ایلیمنٹری بورڈ کا قیام۔
-13 میرپور میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا قیام۔
-14 ٹورازم، آبپاشی ، ماہی گیری، مائیکرو ہائیڈل اور واٹر کنزرویشن(Water Conservation) پروگرام کے لیے سمال ڈیم اتھارتی(Small Dam Authority) کا قیام اور تین سو سے زائد چھوٹے ڈیموں کی منصوبہ بندی۔
-15 نئی نسل کے لیے روز گار (Possitive engagement of young generation) اور بے روز گاری میں کمی لانے کے لیے دوپہر سے شام تک تعلیمی اداروں کو ہنر مند مراکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ اور معیشت سے وابستہ تعلیم (Economy based education) کے لیے منصوبہ بندی۔
-16 آزاد کشمیر کے دورافتادہ علاقہ جات بھیڈی، آزاد باڑہ، ددھنیال، شاردہ، سرداری اور تاؤ بٹ کے بعض علاقہ جات میں سولر لائٹ کی فراہمی اور آزاد کشمیر کی نئی تعمیر اتی منصوبہ بندی میں سولر نظام کی باقاعدہ شمولیت۔
-17 انٹی گلوبل وارمنگ پروگرام کے تحت کاربن کریڈٹ نظام اور کاربن سیکوسٹریشن (Sequesteration) کا آغاز ۔
-18 آئمہ مساجد اور مکتب سکول کے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ اور ملازمت کی مستقلی۔
-19 ٹیکسٹ بورڈ اور ٹیکنکل ایجوکیشن بورڈ کے قیام کا فیصلہ۔
-20 وویمن یونیورسٹی کے قیام کی منظوری۔
-21 ہندوستانی فائرنگ سے متاثرہ آزاد کشمیر کے تیرہ(13 ) انتخابی حلقہ جات کے لیے بارڈ لائن پیکج کی منظوری۔
-22 انتخابی عمل کو قابل قبول بنانے کے لئے ڈیجیٹل پولنگ(Digital Polling) کے لیے حکومت پاکستان کوتحریری طور پر متوجہ کرنا۔
-23 عام آدمی کو طبی سہولیات کی آسانی سے فراہمی کے لیے پاکستان کے کئی معروف ہسپتالوں میں لاکھوں روپے کی رقم کی پیشگی فراہمی اور سرکاری ملازمین کے لیے علاج معالجے کے نظام میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ۔
-24 کشمیرکلچرل بورڈ کا قیام۔
-25 متاثرین منگلہ ڈیم کی آباد کاری کے لیے اقدامات۔
-26 متاثرین زلزلہ کی آباد کاری کے لئے حکومت پاکستان اور بین الاقوامی NGO سے اربوں روپے کا حصول۔یاد رہے کہ متاثرین زلزلہ کے لیے مختص اربوں روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں منتقل کر کے ایرا، سیرا کے تعاون سے بحالی اور تعمیر نو کے عمل کو ظالمانہ اور وحشیانہ طریقے سے متاثر کیا گیا۔
-27 کھڑی شریف میں مدفون معروف زمانہ بزرگان دین پیرے غازی شاہ قلندر اور رومی کشمیر میاں محمد بخش صاحب کے مزارات کی تعمیر۔
-28 احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کی روش کو بدلنے اور گڑھے مردے اکھاڑنے کے بجائے حکومت وقت کا عوامی سطح پر خود احتسابی کے عمل کو متعارف کروانے کے لیے’’جمعہ کچہری‘‘ کا اہتمام جس کے تحت وزیر اعظم کی مختلف مکاتب فکر کی مساجد میں نماز جمعہ کے بعد چند وزراء اور سینئر حکام کے ہمراہ ایک گھنٹہ سے زائد وقت تک موجودگی اور رضا کارانہ جوابدہی کا نظام ۔
-29 ترقیاتی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے محکمانہ آڈٹ(Internal Audit) کا سختی سے اہتمام اور سرکاری جائزہ اجلاسوں میں عوام الناس کے تمام طبقات کی بڑے پیمانے پر شرکت کے نظام کا تعارف اور ہر ترقیات منصوبے کے ساتھ چیک لسٹ ( Check List) کی موجودگی ۔
-30 سائل اور فائل کے تعلق میں آسانی کے لیے ہر سرکاری فائل کے ساتھ فائل موومنٹ چارٹ (File movement chart) کی موجودگی ۔
-31 سرکاری ملازمین کی اندرونی مشکلات کے ازالے اور کشمکش سے بچاؤ کے لیے ACRS کی بروقت تکمیل، سنیارٹی لسٹ کی اشاعت اور بروقت سلیکشن بورڈ کے انعقاد کا اہتمام۔
-32 دوران ملازمت حادثاتی اموات کا شکار سرکاری ملازمین کے بچوں کی ملازمت کا قانون۔
-33 مہاجرین ایم ایل ایز کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی۔
-34 زمین کٹاؤ کی روک تھام، منگلہ ڈیم کو بڑھتے ہوئے مٹی کے دباؤ سے روکنے، سیلیٹیشن(Silitation) کے کنڑول کے لیے اقدامات ۔
-35 سوشل میڈیکل لیگل سروسز کی فراہمی کے لیے اقدامات۔
-36 جنگلات اور دیگر محکمہ جات میں پندہ سال سے زائد ورک چارج ملازمین کی مستقل اور پنشن کے حقوق کا فیصلہ۔
-37 شاریاں، کٹھائی ، راڑہ، قادر آباد ، رینالی، جاگراں ٹو اور بہت سے نئے ہائیڈرل منصوبہ جات پر کام۔
-38 محکمہ زکوٰۃ کے ملازمین کا چالیس سال سے زائد کے مستقلی کے مطالبے کی منظوری۔
-39 مسیحی برادری کے لیے چرچ، قبرستان اور آبادکاری کے لیے رقبہ جات کا مختص کیا جانا۔
-40 ’’ کشمیر توجہ چاہتا ہے‘‘ کا سرکاری سطح پر اہتمام۔
-44 ارجہ باغ کے مقام پرآزاد کشمیر کی پہلی سبزی و فروٹ منڈی(fruits and vegetables) منڈی کے قیام کے لئے سرکاری سطح پر فنڈز کی فراہمی۔</p>