Category Page: خبریں

قائد ملت کی برسی کے حوالے سے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں

راولپنڈی
آل جموں و کشمیرمسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے قائد ملت چوہدری غلام عباس کی 50 ویں برسی کے حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق آج یہاں مجاہد منزل میں سردار عتیق احمد خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں 18 دسمبر کو قائد ملت چوہدری غلام عباس کی برسی کے انتظامات کے حوالے سے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ مرکزی استقبالیہ کمیٹی کے چیئرمین سابق وزیر حکومت راجہ محمد یٰسین خان اور سیکرٹری ساجد قریشی ایڈووکیٹ ہونگے۔ مرکزی رابطہ کمیٹی کی چیئرپرسن سیکرٹری جنرل محترمہ مہرالنساء جبکہ سیکرٹری شیخ یوسف نسیم ایڈووکیٹ اور اسطرح مرکزی میڈیا کمیٹی کے چیئرمین سیکرٹری اطلاعات واجد بن عارف ایڈووکیٹ اور سیکرٹری ہارون آزاد، انتظامیہ کمیٹی کے چیئرمین میجر(ر) نصراللہ خان اور سیکرٹری ذوالفقار بھٹی، شوشل میڈیا کمیٹی کے لیے چیئرمین نثار اعظم راجہ اور سیکرٹری ولیدعبداللہ کو بنایا گیا ہے۔ سرکل اور ضلعی صدور بلحاظ عہدہ مرکزی استقبالیہ کمیٹی کے ممبر ہونگے ۔ سردار عتیق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم کانفرنس ایک مضبوط قوت ہے آج ہم اپنے اسلاف کے مشن پر پہرا دے رہے ہیں۔ کشمیریوں کی امیدیں مسلم کانفرنس سے وابستہ ہیں۔ 18 دسمبر کو قائد ملت کی برسی جوش و خروش سے منائی جائے گی۔ کارکن بھرپور تیاری کریں۔ انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے مسلم کانفرنس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا آج وہ رسوا ہو رہے ہیں ۔ ن لیگ قیادت بند گلی کی طرف جا رہی ہے۔ ملک کو عد م استحکام کی طرف لے جانے کی تمام سازشیں دم توڑدیں گی۔ ن لیگ اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنا کر فرار کا راستہ چاہتی ہے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ قوم کا لوٹا ہوا پیسا اب انھیں ہضم نہیں ہوگا۔ اجلاس میں سیکرٹری جنرل محترمہ مہرالنساء، چیف آرگنائزر سردار صغیر چغتائی، چیئرمین پارلیمانی بورڈ راجہ محمد یٰسین خان، سیکرٹری مالیات سردار افتخار رشید چغتائی، سیکرٹری اطلاعات سردار واجد بن عارف ایڈووکیٹ،پونچھ ڈویژن کے صدر میجر (ر) نصراللہ خان، رولپنڈی اسلام آباد سرکل کے صدر سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ، ضلع راولپنڈی کے صدر ساجد قریشی ایڈووکیٹ،سردار عابد رزاق ،آفس سیکرٹری سردار کلیم ارباب کے علاوہ راولپنڈی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے شرکت کی۔
Back to Conversion Tool

صدر مسلم کانفرنس کا دورہ برطانیہ سے واپسی پر کارکنان اسلام آباد ایئر پورٹ پر استقبال کر رہے ہیں

اسلام آباد
آل جموں و کشمیرمسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ پاک بھارت مذاکراتی عمل میں تعطل عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے بین الاقوامی ثالثی ناگزیر ہے۔ برطانیہ مغربی دنیا میں کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستانی سفارتخانوں کو جماعتوں کے بجائے پاکستان کی نمائندگی پر مامور کیا جائے ۔ تارکین وطن مملکت پاکستان کا سرمایہ ہیں ۔ تارکین وطن کو دوہرے ووٹ کا حق دے کر قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ بیرونی دنیا میں مقیم تارکین وطن کوجماعتی ، گروہی اور علاقائی معاملات سے بالا تر ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک آزادی کشمیر تمام طبقات کی مشترکہ کاوشوں کی متقاضی ہے۔ نواز حکومت اپنی سیاسی افادیت سے مکمل طور پر محروم ہو چکی ہے۔ دھرنے کی کامیابی اسلامیان پاکستان کی فتح ہے۔ مسلح افواج پاکستان نے ایک بار پھر ملک کی ناگزیر قوت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے برطانیہ سے واپسی پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر میڈیا نمائندگان اور کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ آج سہ پہر جب سردار عتیق وطن واپس پہنچے تو ایئر پورٹ پر اُن کا فقید المثال استقبال کیا گیا ۔ مسلم کانفرنس کی سیکرٹری جنرل مہرالنساء، ممبر اسمبلی سردار صغیر چغتائی، چیئرمین پارلیمانی بورڈ راجہ محمد یٰسین خان، سیکرٹری اطلاعات سردار واجد بن عارف ایڈووکیٹ، سیکرٹری مالیات سردار افتخا ررشید، اسلام آباد سرکل کے صدر سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ، پونچھ ڈویژن کے صدر میجر (ر) نصراللہ خان، ضلع راولپنڈی کے صدر ساجد قریشی ایڈووکیٹ، مسلم کانفرنسی رہنماؤں سردار منظور خان، ڈاکٹر عابد عباسی، ذوالفقار بھٹی ، کلیم ارباب، رانا غلام حسین، راجہ محمد اقبال، شاہین قریشی، راجہ عبدالجبار کے علاوہ درجنوں کارکنوں نے اپنے قائد کا والہانہ استقبال کیا ۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ دورہ برطانیہ انتہائی کامیاب رہا۔ مسلم کانفرنس برطانیہ کے کارکنان اور تارکین وطن مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جنھوں نے بھرپور پروگرامات کا اہتمام کیا۔ مسلم کانفرنس برطانیہ میں نہایت مضبوط سیاسی قوت کی حیثیت رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے کشمیریوں پر مظالم کو دنیا بھر میں اجاگر کریں گے۔ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جا سکتی۔ برطانیہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کشمیریوں کی حمائت کرے۔ سردار عتیق نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کے امکانات تلاش کیے جائیں۔ پاک چین اقتصادی راہ داری سے مسئلہ کشمیر کے حل کی نئی امید نے جنم لیا ہے۔ اقتصادی راہداری کی بنیاد خطہ کشمیر کی سرزمین ہے۔ جموں وکشمیر کی سرزمین عالمی اقتصادی تبدیلیوں کی بنیاد بن چکی ہے۔ جو اہل کشمیر اور خطے کی عوام کے لیے حوصلہ افزاء ہے۔

صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کا نیشنل ایکشن پلان پر اظہار اطمینان

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلا ن پر عملدرآمد پر تاخیر بالواستہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ہے۔ فوجی عدالتوں کے خلاف حکمرانوں کی بیان بازی اس بات کا ثبوت ہے کہ فوج کے کام میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ مسلح افواج پاکستان تو اپنی قوم کے ساتھ کھڑی ہے لیکن حکمران طبقہ نریندر مودی اور ا جیت ڈول کی محبت میں گرفتاردکھائی دیتا ہے۔ اندرون پنجاب اور اندرون سندھ آپریشن میں رکاوٹ کا مقصد ہی دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کو بچا کر رکھنا ہے۔ افواج پاکستان کو امن امان کی صورت حال میں مصروف کر کے ہندوستان کشمیر اور سرحدات پر اپنی مرضی کا کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔ حکمران اور وہ چند سیاست دان جو اپنی جمہوریت کو دہشت گردوں اور پیشہ ور مجرموں کی امداد سے چلا کے رکھنا چاہتے ہیں وہ سب بھی افواج پاکستان سے خوف زدہ دکھائی دیتے ہیں۔ نواز لیگ حکومت ماضی قریب میں جب بھی مشکل میں گرفتار ہوئی ہے تو ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گردی کے بعد واقعات کی اوقات ایسے ہیں کہ وہ نواز حکومت بچاؤ اقدامات دکھائی دیتے ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان پر بلا تاخیر آغاز کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی جائے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سانحہ سیون شریف پر رد عمل دیتے ہوئے کیا۔سردار عتیق نے کہا کہ لاہور اور سیون شریف حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ دہشت گردی کی یہ نئی لہر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا رخ بھی کر سکتی ہے۔ آزادکشمیر کی حکومت اور عوام کو چاہئے کہ فوجی اداروں سے مکمل تعاون کریں۔ سکولوں ، کالجوں ، ہسپتالوں اور عوامی مراکز کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ سکولوں کے طلبہ و طالبات کو آس پاس نظر رکھنی ہوگی۔ اس لہر کو روکنا صر ف حکومت اور اداروں کے بس کی بات نہیں بلکہ ہم سب نے ملکر کر اس کو روکنا ہوگا۔ نواز شریف کی حکومت اور اُس کے چند وزراء فوجی عدالتوں کی مخالفت کر رہے ہیں جبکہ کراچی میں بھی کچھ لوگ جزوی طور پر سوگ کر رہے ہیں۔ رینجرز اور پاک فوج کو نواز حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل نہیں اس لیے دفاعی اداروں اور عوام کو ملکر اس طوفان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس وقت جماعتوں ، فرقوں اور علاقوں کے بجائے ملکر اس لہر کو روکا جا سکتا ہے۔ چونکہ ہندوستان اس وقت بدحواسی کا شکار ہے ،ا اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردوں کا اگلہ نشانہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان ہو سکتا ہے۔ سری نگر میں ہر طرح کی کارروائی کشمیری عوام نے ناکام بنا دی ہے۔ ہندوستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ہندوستان اس دہشت گردی کو ہر گھر گھر اور ادارے تک پہنچانا چاہتا ہے۔ ہندوستان کو پاک چین راہ داری سے خوف ہے ، ہندوستان مغرب دنیا کے بدلتے ہوئے حالات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے اورافغانستان کے راستے پاکستان میں دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔ ہندوستانی ماہرین پاکستان کے اندرونی عدم استحکام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ جب بھی نواز حکومت پر سیاسی ، عدالتی اور صحافتی دباؤ بڑھتا ہے تو ملک کے سرحدی علاقوں پر ہندوستان کی طرف سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے یا پھرملک کے اندر دھماکے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ سانحہ پشاور ، سانحہ کوئٹہ ، سانحہ لاہور اور آج کا واقعہ اسی کی کڑی ہے۔ صدر مسلم کانفرنس نے کہا کہ میں کسی پہ الزام نہیں لگاتا لیکن واقعات کی کڑی سے کڑی ملتی جا رہی ہے۔ اس بات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ کیا یہ سب اتفاقیہ ہے یا کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ آرمی چیف نے پنجاب اور گجرانوالہ گریثرن میں دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف پنجاب اور لاہور میں آپریشن شروع کرنے کی بات کی تو اس کے ساتھ ہی دہشت گردی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ سردار عتیق نے کہا کہ ہم سب کو اجتماعی توبہ استغفار کے ساتھ ساتھ مدارس اور سکولز میں اذانیں شروع کرنی چاہئیں۔ اس طرح کی دہشت گردی پر مظاہرے کرنے اور ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے سے فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اگر حملہ یکساں تو جواب بھی یکساں ملکر دینا ہوگا۔ قبل از وقت پیش بندی کرنا ضروری ہے۔ ہر جماعت دوسری جماعت کے ساتھ تعاون کرے۔ ساری قوم متحد اور یک جان ہو جائے۔ اگر آج حکومت اور اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف ملکر پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہو جائیں تو یہ کاروائیاں دم توڑ سکتی ہیں۔

صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کا ڈان لیکس فیصلے پر موقف

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کے فیصلے کو فتح و شکست کے حوالے سے نہ دیکھا جائے افواج پاکستان ملکی سلامتی کے ادنیٰ ترین تقاضے کو بھی قربان نہیں کر سکتی۔ دنیا کی ہر دانشمند قیادت نے کامیابی کے ساتھ پسپائی کے راستہ ہمیشہ کھلے رکھے ہوتے ہیں۔ نواز لیگی قیادت فوج کے ہاتھوں سیاسی شہید بننے کی بھرپور خواہشمند تھی۔ عسکری قیادت نے کمال دانشمندی کا مظاہرہ کر کے کرپٹ سیاسی ٹولے کو سیاسی شہید بننے سے بچا دیا۔ کسی بھی غیر محتاط فیصلہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی داخلی سیاسی افراتفری افواج پاکستان کی سرحدات پر موجود خطر ناک صورتحال سے توجہ منتشر کرنے کا باعث بن سکتی تھی پاکستان کی داخلی صورتحال قومی اداروں کی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم کانفرنس تحصیل دھیرکوٹ کے صدر راجہ محمد نیاز خان اور راجہ غلام رسول خان کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ تقریب کے بعدصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ پاکستان دشمن قوتیں افواج پاکستان کو نت نئے محاذ کھول کر انہیں داخلی امور پر اس طرح مصروف کرنا چاہتی ہیں کہ ان کی صلاحیتیں دفاعی نظام پر مرکوز رہنے کے بجائے داخلی انتشار میں صرف ہو کر پیشہ وارانہ فوجی صلاحیت میں کمی کا باعث بنے۔کوئی محب وطن شخص فوج دشمن عناصر کے پھیلائے ہوئے جال میں نہیں پھسنا چاہے گا۔ملکی سلامتی و بقاء کے دشمن صرف و صرف مسلح افواج پاکستان کو مملکت خداد پاکستان سمجھتے ہیں۔آزادکشمیر کے دو بار منتخب سابق وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج اور مملکت پاکستان ایک تصویر کے دو پہلو ہیں جبکہ بعض سیاسی عناصر اپنی قومی فوج کے بجائے دشمن کی فوج کے ساتھ کھڑا ہونے پر فخر محسو س کرتے ہیں۔عسکری قیادت کا ڈان لیکس میں دانشمندانہ فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ فوجی قیادت نے حالیہ فیصلے سے نواز لیگ کی ایک اور چال ناکام بنا دی۔ محب وطن عناصر یہ بات سمجھتے ہیں کہ ایسے ناز ک موڑ پر اتنے اہم فیصلوں کے اثرات رفتہ رفتہ وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ پاکستان دشمن عناصر یہ مت بھولیں کہ ہر محب وطن شخص پوری قوت سے مسلح افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ عتیق احمد خان نے کہا کہ کشمیر میں بد ترین ناکامی کے بعد ہندوستانی فوج نے افغانستان کا رخ کیا ہے جسے اس محاذ پر بھی کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔ وقت کا تقاضاہے کہ امور خارجہ میں کشمیر، افغانستان، سی پیک اور ایران سے متعلقہ تمام امور کو پاکستان کی دفاعی پالیسی کا حصہ بنانا چاہیے۔مستقبل کا مورخ عسکری قیادت کے موجودہ فیصلوں کو تاریخی و سنہری قرار دے گا۔ فوجی قیادت کا ہر فیصلہ پاکستانی مفادات کے گرد گھومتا ہے جبکہ بعض سیاستدان پورے پاکستان کو اپنے کاروباری مفادات کے گرد گھومنا چاہتے ہیں رفتہ رفتہ پاکستان نواز اور دشمن نواز قوتیں خود بخود نکھر کر سامنے آجائیں گی تمام محب وطن عناصر کو غیر محسوس طور پر پاکستان اور افواج پاکستان کا ساتھ دینا ہو گا۔

صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کا شریعت کورٹ پر موقف

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ نواز لیگ آزادکشمیر کو بدترین سیکولر ریاست بنانا چاہتی ہے۔ عام انتخابات میں ریاست سے سیاسی تشخص ختم کیا گیا اور اب شریعت کورٹ کو ختم کر کے اسلامی تشخص بھی مٹانے کی کوششیں کی جار ہی ہیں۔ ’’را‘‘ کے چیف کی گاڑی چلانے والے نواز شریف کشمیریوں کے اوپر ہونے والے ظلم و ستم پر مکمل خاموش ہیں۔ لیگی حکومت شریعت کورٹ ختم کرنے سے باز رہے آزادکشمیر میں اسلامی اقدار کے منافی اقدام کی مخالفت کریں گے۔ آزاد حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے اجتناب کرے ۔ نواز لیگ پہلے مرحلے میں شریعت کورٹ اور دوسرے مرحلے میں قاضیوں، مفتیوں کو فارغ کرنا چاہتی ہے۔ آزادکشمیر کی تمام دینی جماعتیں مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں اور حکومت کی اسلام مخالف سرگرمیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں۔ حیرت کی بات ہے کہ اسلام کے نام لیوا جماعت اسلامی حکومت کی اتحادی ہے اور وہ اس حساس ایشو پر خاموش کیوں ہے۔
انھوں نے ان خیالات کااظہار آزاد حکومت کی طرف سے شریعت کورٹ کو ختم کیے جانے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کیا۔سردار عتیق نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے ریاست کے ادارے قائم کئے ۔ کچھ ناعاقبت اندیش انھیں ختم کرنے کے درپے ہیں۔شریعت کورٹ کا قیام مجاہد اول کی کاوش تھی۔ ریاست میں اسلامی اقدار کا نفاذ مسلم کانفرنس کا مشن ہے لیکن لیگی حکومت شریعت کورٹ کو ختم کر کے نہ جانے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ حکومت اگلہ حملہ مفتیوں اور قاضیوں پر کرنا چاہتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کے ساتھ ملکر شریعت کورٹ بحالی تحریک چلائیں گے اور حکومت کے سیکولر خیالات کو شکست دینگے۔ انھوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں NTS کے نام پر ڈرامہ رچایا گیا۔ لیگی کارکن NTS کے عملہ کے فرا ئض انجام دیتے رہے جوکہ سوالیہ نشان ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے NTS کے اوپر حکم امتناعی بھی دیا ہوا تھا اُس کا خیال نہ رکھتے ہوئے جلدی میں NTS کے پیپر لینا میرٹ اور گڈ گورننس کے دعوؤں کو مشکوک کرتا ہے۔ سردار عتیق نے مزید کہا کہ سینکڑوں تجربہ کار اساتذہ کرام کے پرامن احتجاج پر حکومت کا لاٹھی چارج باعث ندامت ہے۔

صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کاوزیر اعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر کے حالیہ بیان پر رد عمل

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردا ر عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم آزادکشمیر کا بیان نواز لیگ کی حقیقی کشمیر پالیسی کا عکاس ہے۔ اس بیان سے راجہ فاروق حیدر کی اصل بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ پاکستان کے اعلی ترین ادارے سپریم کورٹ کی توہین ناقابل فہم ہے۔ آزادکشمیر میں نواز لیگ کی مخالفت ایک بہانا ہے۔ نظریہ الحاق پاکستان نواز لیگ کا اصل نشانہ ہے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کے پاس قرارداد الحاق پاکستان کے حوالے سے بات کرنے کا کوئی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے بیان پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کیا۔ سردار عتیق نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر خان سیاسی، اخلاقی اور انتظامی حدود سے تجاوز کرنے کے بعداب آئینی اور نظریاتی حدود سے بھی تجاوز کرنے لگ گئے ہیں۔ نواز شریف کشمیری عوام کے سب سے بڑے مجرم ہیں۔ نواز شریف تیزی کے ساتھ اپنے عبرتناک انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی توہین پر آزادکشمیر کی اعلی عدالتوں کو از خودنوٹس لینا چاہئے۔ نواز لیگ کو معلوم ہونا چاہئے کہ قرارداد الحاق پاکستان اور نظریہ پاکستان کے وارث ریاست کے کونے کونے میں زندہ و جاوید ہیں۔ اس طرح کی بیان بازی کا ایک مقصد بعض وطن پرست عناصر کو متوجہ کرنا ہے۔ جبکہ راجہ فاروق حیدر خان کی گزشتہ چند سالہ کارکردگی واضح ہے کہ کوئی بھی شخص ان کی سیاسی بلیک میلنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔ نواز لیگ کے اٹھارویں گریڈ کے دو سرکاری ملازمین کا بیگ بستہ اٹھا کر چلنے والا شخص نیشنلسٹ عناصر کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ امان اللہ خان کے جنازے پر راجہ فاروق حیدر کا رویہ کل کی بات ہے۔ راجہ فاروق حیدر خان بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اپنے انجام سے خوفزدہ ہیں۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کا بیان سیاسی بدحواسی اور اپنے انجام سے خوفز دگی کا نتیجہ ہے۔ نواز لیگ آزادکشمیر کے آئینی امور کے سربراہ ایک سابق چیف جسٹس گزشتہ کئی سالوں سے نواز لیگ کی ہدایت پرنظریہ الحاق پاکستان کی مخالفت اور نقائص بیان کرنے پر مامور ہیں۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کا بیان ان کے قائد میاں نواز شریف کے سجن جندال ، اجیت ڈوول اور نریندر مودی سے ملاقاتوں کا تسلسل ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے بارے میں رائے زنی کرنے سے پہلے کسی بھی باخبر شخص کو جنرل ضیاء الحق ، سردار ذیل زسنگھ اور اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب میاں نواز شریف کے درمیان ہونے والی گفتگو کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ معلومات کے لئے ماہنامہ سپوٹک 1990 نومبر کا شمارہ مطالعے کے لئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے شخص کو ابھی ہزاروں جرائم میں سے ایک کا سامنا ہواہے۔ میاں نواز شریف نے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن میں سے کچھ کی سزا نااہل اور قید و بند ہے جبکہ کئی جرائم کی سزا میں انھیں کئی کئی مرتبہ چوک اور چوراہے میں پھانسی دی جا سکتی ہے۔ نواز شریف نے شہدائے کشمیر کے خون اور پاکستان کے دفاع کی قیمت پر ہندوستان کے ساتھ ذاتی اور کاروباری تعلقات استوار کر کے غداری کا ارتکاب کیا ہے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کو یاد رکھنا چاہئے کہ نواز لیگ اب قصہ پارینہ بن چکی ہے صرف چندماہ انتظار کریں اور اپنے خوفناک انجام سے بچنے کی فکر کریں۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے اور نظریہ الحاق پاکستان پر نظر ثانی کرنے جیسے بڑے بڑے کام ان کے قد کاٹھ سے بہت بلند ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو مظفرآباد کے خیمے سے وائٹ ہاؤس کے درمیان محدود رکھیں۔ راجہ فاروق حیدر خان کا بیان قومی سلامتی کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے تحریک آزادی کشمیر کی پشت پر چھرا گھونپا ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کے بیان نے اس حلف کی اعلانیہ خلاف ورزی کی ہے جس کی بناپر وہ آج حکومت آزادکشمیر کے سربراہ ہیں۔ یہ معمول کے جرائم میں سے نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے۔ مسلم کانفرنس اپنے وکلاء اور آئینی اور قانونی ماہرین کی مشاورت سے قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہی ہے۔ تمام اسمبلی ممبران سے میرا مطالبہ ہے ان میں سے ہر شخص وزیر اعظم کے بیان سے اعلان لا تعلقی کا اعلان کریں۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کا جو بیان اخبارات میں رپورٹ ہوا ہے وہ PID کی طرف سے سرکاری طور پر جاری ہوا ہے۔ یہ کسی اخبار کی من گھڑت کہانی نہیں ہے۔ جہاں تک وزیر اعظم آزاد کشمیر کے اس بیان کی اشاعت کا تعلق ہے وہ ایک الگ واقعہ سہی لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ وہ اندرون خانہ اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرنا اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔